کلکتہ یکم ؍مارچ (ایس او نیوز) مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتابنرجی نے ایک چبھتا ہوا سوال پوچھا ہے کہ پاکستان میں موجود دہشت گردوں کے اڈے پر ہندوستانی فضائی فوج نے آدھی رات کو جو حملہ کیا تھا ، اس بمباری میں کیا واقعی کوئی ہلاک بھی ہوا تھا؟!
ممتا نے ریاستی سیکریٹریٹ میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ پہلے دن سے میں سن رہی ہوں اور خاص کرکے نیشنل ٹی وی چینلز پر بتایا جارہا ہے کہ فضائی حملے میں 300سے350افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ حقیقت میں کتنے لوگ مارے گئے ہیں۔ کیا واقعی کوئی ہلاک ہوا بھی ہے؟ وہ بم کہاں گرائے گئے تھے؟ کیا بم صحیح مقام پر ہی گرائے گئے تھے؟‘‘
کچھ بین الاقوامی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’میں یہ سوال میڈیا کی کچھ رپورٹس کی بنیاد پر اٹھا رہی ہوں۔میں نے نیویارک ٹائمز اور رائٹرز کی رپورٹس دیکھی اور پڑھی ہیں۔ وہ کہہ رہے کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں ۔ جو بم گرائے گئے وہ اپنے نشانے سے چوک گئے اور کسی دوسرے مقام پر گر گئے۔ان میں سے کچھ کہہ رہے ہیں کہ صرف ایک فرد ہلاک ہوا ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ مسلح افواج کو حقیقت بیان کرنے کے لئے کھلی چھوٹ دی جانی چاہیے۔انہوں نے پوچھا کہ ’’ تو پھر سچائی کیا ہے؟ ہم سب اپنی افواج کے ساتھ ہیں۔اس کے ساتھ ہم چاہتے ہیں کہ افواج کو سچائی بتانے کا موقع دیناچاہیے۔ملک کے عوام کے سامنے سچائی کھل کر آنی چاہیے۔‘‘ فضائی حملے میں ہلاکتوں پر اپنے سوال کو دہراتے ہوئے ممتابنرجی نے اس بات پر بھی اپنا اعتراض جتایا کہ وزیر اعظم نریندرا مودی نے پلوامہ میں سی آر پی ایف پر دہشت گردانہ حملے اور پاکستانی علاقے میں ہندوستانی فضائیہ کے حملے بعد حزب مخالف کے ساتھ کوئی میٹنگ نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ میڈیاکی جنگ چل پڑی ہے۔ آج تک حزب مخالف کی پارٹیوں کے ساتھ وزیر اعظم نے ایک بھی میٹنگ منعقد نہیں کی ہے۔میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ فضائی حملے میں کتنے لوگ ہلاک ہوئے؟ کون ہلاک ہوا؟ اور حقیقت میں کیا معاملہ ہوا تھا؟‘‘
ممتا نے کہا کہ’’ہم سیاست کے لئے جنگ لڑنے کے حق میں نہیں ہیں۔ اگر ملکی مفادات کے لئے جنگ ہوتی ہے تو پھر ہما ری پوری حمایت ملک کے ساتھ رہے گی۔ ہم نہیں چاہتے کہ سیاسی مفادات اور انتخاب جیتنے کے لئے جنگ لڑی جائے۔ ہم امن چاہتے ہیں۔‘‘ممتا کا یہ بھی کہنا تھا کہ اوری اور پٹھان کوٹ میں حملوں کے بعد بھی مرکز ی حکومت نے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ’’ اتنے سارے جوان مارے جاتے ہیں۔ حکومت کو پہلے سے اس طرح کے حملے کی خبر تھی۔ اس کے باوجود کوئی احتیاطی قدم نہیں اٹھایا گیا۔اور اچانک ٹی وی چینلوں پریک طرفہ معلومات کی بھرمار شروع ہوجاتی ہے۔ میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ آخر ملک کے عوام کو کس لئے گمراہ کیا جارہا ہے؟‘‘